اسلام میں مرد و زن کا لباس

ازقلم۔مفتی محمد ضیاءالحق فیض آبادی
اسلام نے مرد و عورت کے ما بین لباس اور پردہ کے بارے میں ایک خاص دائرہ متعین کر دیا ہے کہ عورت کا جسم سر سے پاؤں تک قابل ستر ہے جس کا چھپانا ضروری ہے سواۓ چہرہ اور کلائیوں تک ہاتھوں اور ٹخنے سے نیچے تک پاوں کے۔  ان کا چھپانا فرض نہیں لہذا اس کا لباس ایسا ہونا چاہئے کہ جو سر سے پاؤں تک ڈھکا رکھے۔ اور کبھی ضرورت کے پیش نظر گھر سے باہر جائے تو اس پر آشوب دور میں چہرہ پر  ضرور نقاب ڈال لے ۔
 مرد کو ناف سے گھٹنے تک کا جسم ڈھکنا فرض ہے اگر نماز میں کھلا رہا تو نماز نہ ہوگی ۔نماز کے علاوہ بھی کھولنےکی اجازت نہیں۔
اللہ پاک نے قرآن مقدس میں ارشاد فرمایا ، اے لوگوں اپنے اعضا کو چھپاؤ ، اللہ عزوجل نے اپنی مخلوقات کو الگ الگ کاموں کے لئے بنایا ہے اور جس مخلوق کو جس کام کے لئے منتخب فرمایا ،اس کا اسی کے مطابق مزاج بھی بنایا، دنیا کی ہر چیز سے قدرتی کام لینا چاہیے ۔ جو خلاف فطرت  کام لے گا وہ خرابی میں پڑے گا ۔ کیونکہ ترتیب کے مطابق کام بجا لانا کام  کے ساتھ انصاف ہے اور ترتیب کے خلاف انجام دینا ظلم اور انسانیت کے بر خلاف ہے اس لیے ہر شئ کا ایک محل ہوتا ہے اور اس شئ کو اس کے محل میں ہی استعمال کرنا اس شئ کا تقاضا ہوا کرتا ہے ورنہ شئ پر ظلم ہے ۔
مثال کے طور پر  گلاس پانی پینے کے لئے اور اگلدان تھوکنے کے لئےہے۔ جو کوئی اگلدان میں پانی پیے اور گلاس میں تھوکے تو وہ جاہل کے ساتھ ساتھ پاگل بھی کہلائے گا اس لیے اس نے خلاف وضع کام کیا۔
ٹھیک اسی  طرح انسان کے دو گروپ ہیں ایک مرد کا دوسرا عورت کا۔
اللہ عزوجل نے عورت کو گھریلو  امور سنبھالنے کے لئے بنایا ، اور مرد کو باہر کا کام کرنے کے لئے بنایا اس  بارے میں ایک دانش مند کا قول ہے کہ پچاس عورت کی کمائی میں وہ برکت نہیں جو ایک مرد کی کمائی میں ہے ۔
یہی تو وجہ ہے کہ شریعت نے بیوی کا خرچ شوہر کے ذمہ رکھا اور بیوی کے ذمہ شوہر کا خرچ نہیں ۔کیونکہ عورت کمانے کے لئے نہیں بنی ہے ۔اس لئے عورت کو وہ چیزیں دیں جو اس کو گھر میں بیٹھنا پڑے اور مردوں کو اس لیے آزاد رکھا کہ وہ باہر کمائیں ۔
مثال کے طور پر عورت کا بچہ جننا ، بچوں کو دودھ پلانا وغیرہ اس لیے بچپن سے ہی لڑکوں کو بھاگ دوڑ اچھل کود پسند ہیں اور لڑکیوں کو قدرتی طور پر وہ چیزیں پسند ہیں جس میں اس کو دوڑنا نہ پڑے۔
 اللہ عزوجل نے عام مسلمانوں کو حکم دیا *اے مسلمانوں ! جب تم نبی کی بیویوں سے مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگو*
مسلمانوں! دیکھا  اپ نے بیویوں کو ادھر گھروں میں روک دیا اور مسلمانوں کو پردے سے مانگنے کا طریقہ سیکھایا ۔
حضور اکرم صلی الله عليه وسلم کے زمانہ میں عورتیں مسجد میں نماز کی جماعت میں شریک ہوتی تھیں۔ اس لیے یہ حکم تھا کیونکہ اس وقت ابتداے اسلام کا دور تھا۔ مگر پھر بھی عورتوں کے لئے نکلنے میں پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں۔ کہ خوشبو لگا کر نہ نکلیں بیچ راستہ غیر سے بات نہ کریں فجر کی نماز اس قدر اندھیرے میں پڑھی جاتی کہ عورتیں پڑھ کر نکل جائیں اور کوئی پہچان نہ سکے عورتیں مردوں کے بالکل پیچھے کھڑی ہوتی تھیں۔  لیکن حضرت عمر رضى الله عنہ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں عورتوں کو مسجدوں میں آنے اور عید گاہ میں جانے سے روک دیا۔ عورتوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا سے شکایت کیں ہم کو حضرت عمر رضى الله عنہ نے مسجد میں جانے  سے روک دیا تو حضرت عائشہ رضی الله عنہا نے فرمایا کہ اگر حضور صلی علیہ وسلم بھی اس زمانہ کو دیکھتے تو عورتوں کو مسجدوں سے روک دیتے۔
(ردالمختار کتاب الصلوۃ)
مذکورہ بالا عبارت سے معلوم ہوا کہ وہ خیر وبرکت کا زمانہ تھا اور یہ شر و فساد کا ہے ۔ جب اس وقت عورتوں کو پردہ کرایا گیا تو کیا یہ وقت اس وقت سے اچھا ہے؟ اس لیے راقم الحروف نے دور جدید کے تقاضوں کو نگاہ میں رکھتے ہوے قران و حدیث کی روشنی میں پردہ کی شرعی حیثیت کو اختصارا بیان کیا۔
*اقوال فقہاء*
فقہاۓ کرام فرماتے ہیں فتاوی شامی میں ہے  عورت کے سر سے  نکلے ہوئے بال اور پاؤں کے کٹے ہوئے ناخن بھی نہ دیکھے ۔
عورت پر جمعہ کی نماز فرض نہیں کیوں؟ اس لیے کہ اس نماز کے لئے جماعت شرط ہے اور یہ مسجدوں میں ہوتی ہے اور عورت کو  بلاضرورت گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں ۔
حضرت فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا نصیحیت فرمائی تھی مجھے رات میں دفن کرنا ، کیوں ؟ اس لیے کہ اگر دن میں دفن کیا گیا تو کم از کم دفن کرنے والوں کو میرے جسم کا اندازہ ہو جاے گا یہ بھی منظور نہیں ۔یہاں تک کہ پردہ کی وجہ سے شریعت نے بہت سے حکم عورتوں سے اٹھا لیے۔
مسلمانو ، ذرا غور کرو   کرو کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بیان کہ دن میں مجھے دفن نہ کیا  جاے تاکہ میرے جسم کا اندازہ نہ ہو سکے ۔اور دور حاضر کی فیشن زدہ عورتوں کو دیکھیں کہ یہ جب برقعہ پہنتی ہیں تو نقاب ایسا چست ہوتا ہے کہ اس کے پورے جسم کا اندازہ ہو جاتا ہے ۔ یہاں تک کہ اعضا کے سائز کا پتہ چل جاتا ہے ۔ شریعت کی طرف سے پردہ یا برقعہ کا حکم اس لیے نافذ ہوا تاکہ عورتیں اپنے جسم کو چھپائیں ۔لیکن یہ عورتیں جسم کیا چھپائیں گی یہ عورتیں تو برقعہ کے ذریعے اپنے بدن کو ظاہر کرتی ہیں ۔اج کی عورتوں کا یہ حال ہے کہ انکے برقعہ پر ایک برقعہ چاہئے اللہ رحم فرمائے ان بے حیا اور بے غیرت عورتوں پر ذرا سوچیے ، جب عورتوں کو مسجدوں میں جانے کی اجازت نہیں ، قبرستان جانے کی اجازت نہیں، عید کی نماز کے لیے عید گاہ جانے کی اجازت نہیں ، تو  بازار ، کالج ، کمپنی، جانے کی کیوں کر اجازت ہوگی یہ سب کیا مسجدوں اور عید گاہوں سے بڑھ کر ہیں ۔
دور رواں میں جہاں کہیں بھی دیکھیے مسلم معاشرہ مغربی تہذیب و تمدن کو اپنی زندگی میں اپنا کر فخر محسوس کرتا ہے ۔عورتیں مرد کا لباس پہن کر گھومتی ہیں ۔ دیکھنے کے بعد کوئی امتیاز نہیں ہوتا کہ مرد ہے یا عورت، کو ئی فرق نہیں ہے کہ عائشہ ہے یا،زید ؟ ہمارے معاشرے کا یہ حال ہے۔ والدین اپنی جوان بیٹی کی کمائی کہانے کے لئے بلاحجاب اپنی بیٹی کو کمپنیوں میں ملازمت کے لئے بھیجتے ہیں۔ عمر ہونے کے بعد بھی اس لڑکی کی شادی نہیں کرتے۔ والدین کو اس بات کا علم ہے کی میری بیٹی بدفعلی میں ملوث ہے۔ ذرا بتایئے قیامت کے دن  ایسے والدین اور بیٹی کا حشر کیا ہوگا ۔
اللہ رحم فرمائے ، فیشن کی دنیا میں مرد و عورت کے لباس دو طرح کے ہیں ۔
ایک وہ چست  اور دوسرا وہ لباس جو بلکل چھوٹا ، جگہ جگہ کٹا ہوا جس سے بدن کا اکثر حصہ صاف طور پر  نظر اتا ہے ۔اس پر فتن دور میں مرد و عورت دونوں کا لباس ایک ہے کوئی حدامتیاز نہیں دونوں لباس کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مشابہ ہیں ۔
حدیث شریف میں ہے *اللہ کی لعنت ہے ایسے مردوں پر جو عورتوں سے مشابہت رکھیں اور ایسی عورتوں پر جو مردوں سے مشابہت پیدا کریں*
دل کی پکار ہے کہ مسلمانو! جرم ہمیشہ سے ہوتے رہے ہیں جیسا کہ لوگ چوری کرتے ہیں اور شراب بھی پیتے ہیں ،زنا بھی کرتے ہیں ، غیبت بھی کرتے ہیں ،بس اسی طرح اگر تم کو جرائم کا شوق ہے تو تم جانو اور تمہارا عمل جانے۔ مگر خدا کے واسطے قانون الہی کو نہ بدلو ۔ اور جرائم کو خدا کے قانون میں داخل نہ کرو، بلکہ جرم کو جرم اور گناہ کو گناہ جانو ۔دوسرے کو بے دینی کی دعوت نہ دو۔ اور قانون الہی کی تحریف کرکے اپنےجرائم کو قانون الہی میں داخل کر کے تم مسلمان ہرگز نہیں رہ سکتے کیوں کہ یہ  ایک جرم عظیم ہے ۔ عورتوں کا بے پردہ رہنا ایک جرم اور گناہ عظیم  ہے۔
اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ مولی تمام مسلمان کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرما امین یا رب العالمین

خبریں

ڈاکٹر ہرش وردھن دہلی کے اسپتالوں میں ٹیکہ کاری مہم کا جائزہ لیں گے

  نئی دہلی، 16 جنوری  مرکزی وزیر برائے صحت اور خاندانی بہبود ڈاکٹر ہرش وردھن آج دہلی کے مختلف اسپتالوں میں جا کر کورونا ٹیکہ کاری مہم کا جائزہ لیں۔…

مضامین و مقالات

سال 2020 کی ہنگامہ آرائیاں اور حوصلہ خیز کار گزاریاں ۔۔۔

عمیر محمد خان ریسرچ سکالر رابط: 9970306300 سال2020 ہمارے ذہنوں میں ہمیشہ تروتازہ رہے گا۔اس سال دلدوز واقعات رونما ہوئے اور ساتھ ہی خوش آئنداور اختراعی کام عمل میں آئے۔خوف…

اسلامیات

مال دار تو بہت ہیں مگر دلدار نہیں ہیں

۔ شمشیر عالم مظاہری دربھنگوی امام جامع مسجد شاہ میاں رہوا ویشالی بہار قارئینِ کرام ۔ اللہ تعالی نے جن کو مال سے نوازا ہے ان میں بہت کم ایسے…

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے